Wednesday, June 16, 2021
spot_img

جبری ویکسینیشن کیا ضروری ہو گئی؟

ملک میں جہاں تقریباً 3 لاکھ افراد کو روزانہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جارہی ہے اور کورونا کیسز میں مسلسل کمی ہورہی ہے وہیں کووِڈ مریضوں کے لیے مختص 70 فیصد وینٹیلیٹرز اور آکسیجنیٹڈ بیڈز خالی ہیں۔

وزارت صحت نے ان افواہوں کی تردید کردی کہ حکومت ‘جبری’ طور پر ویکسین لگائے گی اور ویکسین لگانے سے انکار کی حوصلہ شکنی کے لیے کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کووِڈ مریضوں کے لیے مختص 70 فیصد وینٹیلیٹرز اور آکسیجنیٹڈ بستر خالی ہیں۔

گزشتہ روز 361 وینٹیلیٹرز پر مریض زیر علاج تھے جبکہ اپریل میں یہ تعداد 700 تک پہنچ گئی تھی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 79 فیصد، بہاولپور میں 74 فیصد اور لاہور میں 73 فیصد وینٹیلیٹرز خالی تھے۔

اسی طرح 72 فیصد آکسیجن کی سہولت والے بستر پشاور میں تقریباً 70 فیصد کراچی، ملتان اور ایبٹ آباد میں خالی تھے۔

دوسری جانب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا تھا کہ حکومت ویکسینیشن کا عمل تیز کرنے کے طریقوں پر غور کررہی ہے لیکن وزارت صحت نے وضاحت کردی کہ جبری ویکسینیشن پر غور نہیں کیا جارہا۔

افواہیں تھیں کہ حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا سوچ رہی ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی، ان کی سمز بلاک کردی جائے گی اور انہیں ریسٹورنٹس اور سرکاری دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ویکسینیشن کی حوصلہ افزائی اور یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ عوامی مقامات اور تقاریب میں کوئی خطرہ نہ ہو، کسی بھی طرح جبری ویکسینیشن نہیں ہوگی لیکن ہم صحت عامہ کی حفاظت کے لیے کچھ پابندیاں لگائیں گے۔

Advertisementspot_img

Related Articles

Stay Connected

147,625FansLike
8,890FollowersFollow
1,236SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles

- Advertisement -spot_img