Wednesday, November 30, 2022
spot_img

نیند کی کمی نوجوانوں میں ڈپریشن اور غصہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے: تحقیق

نیند کی کمی نوجوانوں میں ڈپریشن اور غصے جیسے احساسات بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

فلینڈرز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 15 سے 17 سال کی عمر کے 34 صحت مند نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 20 لڑکے اور 14 لڑکیاں شامل تھیں اور انہیں 10 دن اور 9 راتوں تک ایک خصوصی طورپر ڈیزائن کیے گئے سلیپ سینٹر میں رکھا گیا۔

ان کو 5 راتوں تک نیند کا 3 میں سے کوئی ایک دورانیہ دیا گیا جو 5 گھنٹے، ساڑھے 7 گھنٹے اور 10 گھنٹے تھا۔ بیدار ہونے پر ان سب کے مزاج کی جانچ پڑتال ہر 3 گھنٹے بعد کی گئی تا کہ ان کے احساسات کا تجزیہ کیا جا سکے اور دیکھا گیا کہ وہ کس حد تک ڈپریس، خوفزدہ، مشتعل، الجھن، تشویش زدہ، خوش اور پرجوش ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ساڑھے 7 یا 10 گھنٹے والے گروپس کے مقابلے میں 5 گھنٹے والے گروپ کے افراد زیادہ ڈپریس، مشتعل اور الجھن کے شکار تھے۔ اسی گروپ میں خوشی اور جوش جیسے احساسات میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی.

دوسری جانب جب ان افراد کو 10 گھنٹے تک سونے کا موقع دیا گیا تو ان کی خوشی کااحساس بڑھ گیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ 2 راتوں تک زیادہ سونا 5 گھنٹے والے گروپ کے مزاج پر مرتب ہونے والے منفی اثرات میں کمی لانے کے لیے کافی نہیں تاہم کسی حد تک مزاج پر مثبت اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ نیند کی کمی لڑکپن اور نوجوانی کی عمر کو پہنچے والے افراد میں مزاج کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔

Advertisementspot_img

Related Articles

Stay Connected

147,135FansLike
8,890FollowersFollow
1,236SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles

- Advertisement -spot_img