Sunday, September 26, 2021
spot_img

نور مقدم کے قاتل کی پینٹنگ بنانے والا آرٹسٹ شدید تنقید کی زد میں!

دارالحکومت اسلام آباد میں سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل میں ملوث ظاہر جعفر کی پینٹنگ بنانے والے آرٹسٹ کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈان نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق نوجوان آرٹسٹ عبدالمفتی نے حال ہی میں ظاہر جعفر کی پینٹنگ بنائی تھی، جس میں انہوں نے ملزم کو سفاکانہ انداز میں دکھایا تھا۔

مذکورہ تصویر میں ایک شخص کو سفید رنگ کی شلوار اور بنیان میں دکھایا گیا تھا، جس کے کپڑوں اور جسم پر خون کے نشانات تھے اور انہیں بستر پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

پینٹنگ میں فرش پر بھی خون کو دکھایا گیا تھا جب کہ دیوار پر خون سے جملہ لکھا ہوا دکھایا گیا تھا کہ وہ پاکستانی نہیں امریکی شہری ہیں۔

مذکورہ پینٹنگ کو شیئرنگ کرتے وقت آرٹسٹ نے لکھا تھا کہ عین ممکن ہے کہ مذکورہ تصویر لوگوں کو خوفناک محسوس ہو اور وہ بعض افراد کو متاثر بھی کرے، تاہم ان کی جانب سے تیار کی گئی پینٹنگ کا مقصد سفاکانہ قاتل کو دکھانا تھا۔

انہوں نے لکھا وہ پینٹنگ میں قاتل کو عام کپڑوں میں دکھانا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ انہیں ایسے انداز میں دکھانا چاہتے تھے، جس سے محسوس ہو کہ وہ بہیمانہ کارروائی کے وقت ہوش و حواس میں تھے اور انہیں وہ رحم کے قابل نہیں۔

انہوں نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ انہوں نے مذکورہ پینٹنگ کو مذکوہر طرز پر اس لیے بنایا تاکہ دکھایا جا سکے کہ سماج میں بربریت اور ایسی کارروائیوں میں ملوث ملزمان کس طرح پر سکون رہتے ہیں اور خواتین کو کس طرح پے در پے قتل کیا جاتا ہے۔

تاہم ان کی مذکورہ پینٹنگ پر کئی لوگ ناخوش دکھائی دیے اور آرٹسٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے ڈیلیٹ کردیں، کیوں کہ وہ بہت ہی بھیانک ہے۔

متعدد افراد نے ٹوئٹر پر مذکورہ پینٹنگ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اسے دیکھ کر متاثرین یا ان کے اہل خانہ مزید صدمے سے دوچار ہو سکتے ہیں، اس لیے اسے ہٹایا اور ڈیلیٹ کردیا جائے۔

بعض افراد نے لکھا کہ کسی بھی متاثر شخص کے صدمے اور ان پر ڈھائے گئے مظالم کو آرٹ میں نہیں ڈھالا جا سکتا، پینٹنگ دیکھ کر ظلم کا نشانہ بننے والے افراد اور ان کے اہل خانہ پر سکتا طاری ہو سکتا ہے، اس لیے تصویر کو ہٹایا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی 27 سالہ نور مقدم کو ان کے دوست رہنے والے ظاہر جعفر نے 20 جولائی کو قتل کردیا تھا، جس کے بعد مقتولہ کے اہل خانہ کی فریاد پر مقدمہ دائر کر کے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

Advertisementspot_img

Related Articles

Stay Connected

147,135FansLike
8,890FollowersFollow
1,236SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles

- Advertisement -spot_img