Saturday, April 17, 2021
spot_img

پاکستان میں کرونا ویکسین لگانے کی رفتار سست ترین ہے: تحقیقاتی رپورٹ

بلوم برگ نے پاکستان میں ویکسین لگنے کی رفتار کو سست ترین قراردے دیا اور کہا ہے کہ دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان آبادی کو کورونا ویکسین لگانے میں بہت پیچھے ہے۔

بلوم برگ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں موجودہ رفتار سے ویکسینیشن کرنے پر اگلے 10 برس میں 75 فیصد آبادی کو ہی ویکسین دی جاسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا ہے کہ پنجاب میں کرونا ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی سست روی کا شکار ہے، لاہور کے لئے یہ مدت 11 سال سے زائد بنتی ہے، جس میں تمام آبادی کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔

بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرونا ویکسینیشن کا آغاز دو ماہ قبل 3 فروری سے کیا گیا ، فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق صوبہ بھر میں اب تک 1 لاکھ 24 ہزار سے زائد ہیلتھ کئیر ورکرز کو ویکسین لگائی گئی جبکہ 2لاکھ 22ہزار سے زائد عام شہری ویکسین لگوانے میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 11 کروڑکی آبادی میں اب تک صرف 3 لاکھ 47ہزار 561افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے، اس اعتبار سے روزانہ کی بنیاد پر 5ہزار 7سو 92 افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے، اگر اسی رفتار کو اوسط مانا جائے تو اگلے پونے 53 سالوں میں پنجاب کی کل آبادی کو ویکسین لگائی جا سکے گی۔

بلومبرگ نے کہا ہے کہ لاہور کی سوا کروڑ کی آبادی میں سے اب تک صرف 1لاکھ 77ہزار 3 سو 69 افراد کو ویکسین لگائی جا سکی ہے ، لاہور میں روزانہ 29سو سے زیادہ شہریوں کو ویکسین دی گئی ، جس سے لاہور میں اوسط یہ عرصہ 11سال بنتا ہے ۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، یوکرین، ایران اور بنگلہ دیش کو اپنی آبادی کا 75 فیصد کی ویکسی نیشن میں 10 سال لگیں گے، فلپائن کو 5 سال تک کا عرصہ درکار ہوگا جبکہ بھارت 4 اور ارجنٹائن 3 سال میں اپنی آبادی کے 75 فیصد عوام کو کورونا ویکسین لگا سکیں گے۔

ترکی ، برازیل ، جرمنی ، فرانس ، اسپین اور اٹلی کو ایک سال درکار ہوگا اور اسی طرح برطانیہ، امریکہ، اسرائیل اور چلی سمیت چند دیگر ممالک ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپنی آبادی کے 75 فیصد حصے کو کرونا ویکسین لگا سکیں گے۔

Advertisementspot_img

Related Articles

Stay Connected

148,181FansLike
8,890FollowersFollow
1,236SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles

- Advertisement -spot_img